شیخ عبدالقدیم زلوم (دوسرے امیر)

شیخ عبدالقدیم زلوم (رحمہ اللہ) حزب التحریر کے دوسرے امیر (رہنما) تھے۔ آپ نے 1977 میں بانی شیخ تقی الدین النبہانی کی وفات کے بعد ان کی جانشینی کی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

آپ 1924 عیسوی (1342 ہجری) میں فلسطین کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ آپ نے قاہرہ کی جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کی، جہاں آپ نے 1949 میں عالیہ کی ڈگری (بیچلر کے مساوی) اور 1951 میں عالمیہ کی ڈگری (پی ایچ ڈی کے مساوی) حاصل کی۔

حزب التحریر میں کردار

آپ نے حزب التحریر کے قیام کے وقت سے ہی اس میں شمولیت اختیار کی اور شیخ تقی الدین النبہانی کے قریبی ساتھی تھے۔ آپ نے پارٹی کی قیادت اور اس کی دعوت کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

قیادت

1977 میں شیخ تقی الدین النبہانی کی وفات کے بعد، شیخ عبدالقدیم زلوم نے پارٹی کی قیادت (امارت) سنبھالی۔ آپ کی قیادت میں، حزب التحریر وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ سمیت کئی دیگر ممالک تک پھیل گئی۔ آپ نے مشکل وقتوں میں پارٹی کی رہنمائی کی اور اس کی فکری پاکیزگی اور سیاسی راستے کو برقرار رکھا۔

تصانیف

آپ نے پارٹی کے لیے کئی کتابیں اور کتابچے لکھے اور ان میں اضافہ کیا، جن میں شامل ہیں:

  1. خلافت میں اموال
  2. کتاب “اسلام میں نظام حکمرانی” میں توسیع اور نظر ثانی
  3. جمہوریت کفر کا نظام ہے
  4. وحدت کا شرعی طریقہ
  5. خلافت کیسے منہدم ہوئی (توسیع)
  6. کلوننگ اور اعضاء کی پیوند کاری کا حکم
  7. اور دیگر بہت سی سیاسی اور فکری تحریریں۔

استعفیٰ اور وفات

پیر، 14 محرم 1424 ہجری یا 17 مارچ 2003 عیسوی کو، آپ نے قیادت سے استعفیٰ دے دیا۔ نئے امیر کے انتخاب کے چند دن بعد، آپ کی روح عالم جاودانی کی طرف پرواز کر گئی۔ آپ کا انتقال تقریباً 80 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلام اور مسلم امہ کی خدمت میں گزاری۔