شیخ تقی الدین النبہانی (بانی)
شیخ تقی الدین النبہانی (رحمہ اللہ) ایک اسلامی اسکالر، مفکر اور سیاسی رہنما تھے۔ انہوں نے حزب التحریر کی بنیاد رکھی۔
پیدائش اور پرورش
آپ 1914 عیسوی میں فلسطین کے ضلع حیفہ کے گاؤں اجزم میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو علم اور دین کے لیے مشہور تھا۔ آپ کے والد شریعت کے علوم کے عالم تھے۔ آپ کی والدہ بھی شریعت کے علوم میں ماہر تھیں۔
تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے قاہرہ میں جامعہ الازہر اور دارالعلوم میں تعلیم حاصل کی۔ آپ نے اپنی تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اجتہاد کے درجہ پر فائز ہوئے۔
حزب التحریر کا قیام
فلسطین واپسی کے بعد، آپ نے عدلیہ اور تدریس میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ خلافت کے سقوط کے بعد مسلم امہ کی حالت پر آپ کو گہری تشویش تھی۔ گہرے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد، آپ نے خلافت کے دوبارہ قیام کے ذریعے اسلامی طرز زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے حزب التحریر کی بنیاد رکھی۔
17 نومبر 1952 کو، حزب کے پانچ بانی ارکان نے اردن کی وزارت داخلہ سے سیاسی جماعت کے قیام کے لیے باضابطہ این او سی (No-Objection Certificate) کی درخواست کی۔ یہ ارکان تھے:
- تقی الدین النبہانی: صدر
- داؤد حمدان: نائب صدر اور سیکرٹری
- غانم عبدو: خزانچی
- عادل النابلسی: رکن
- منیر شقیر: رکن
بعد ازاں، 1953 میں، حزب نے القدس (یروشلم) میں اپنے عوامی کام کا آغاز کیا۔
آپ کی تصانیف
آپ نے بہت سی کتابیں لکھیں جو پارٹی کی فکری اور فقہی بنیاد تشکیل دیتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
- نظام اسلام
- اسلام میں نظام حکمرانی
- اسلام میں اقتصادی نظام
- اسلام میں معاشرتی نظام
- التکتل الحزبی (پارٹی کا ڈھانچہ)
- حزب التحریر کے مفاہیم
- الدولۃ الاسلامیہ (اسلامی ریاست)
- الشخصیۃ الاسلامیہ (اسلامی شخصیت - 3 جلدیں)
- حزب التحریر کے سیاسی مفاہیم
- سیاسی نظریات
- نداء حار (ایک گرم جوش پکار)
- حدیث الصیام
- مارکسی سوشلزم کا رد
- خلافت کیسے منہدم ہوئی
- التفکیر (سوچ)
- البدیہہ (وجدان)
- سرعۃ البدیہہ (حاضر دماغی)
- نقطہ انطلاق (شروعاتی نقطہ)
- دخول فی المجتمع (معاشرے میں داخلہ)
- مصر کا اسلحہ
- دو طرفہ معاہدے
- مسئلہ فلسطین کا حل
وفات
آپ نے اپنی زندگی اسلام کا پیغام پہنچانے اور خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے کام کرنے میں گزاری۔ آپ کا انتقال 20 دسمبر 1977 (1 محرم 1398 ہجری) کو بیروت، لبنان میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔